Category Archives: Uncategorized

موضوع:ُ الْمَيْتَةُ (مردار) کی حرمت کا مفہوم قرآن کریم کی روشنی میں

موضوع:ُ الْمَيْتَةُ (مردار) کی حرمت کا مفہوم قرآن کریم کی روشنی میں
تحقیق و تحریر: اختر حیات ملک

سورة المائدة میں ارشاد باری تعالی ہے:

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالـدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنزِيْرِ وَمَآ اُهِلَّ لِغَيْـرِ اللّـٰهِ بِهٖ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

آیت کے اس حصے کا عمومی طور پر یہ ترجمہ کیا جاتا ہے

“تم پر حرام کر دیا گیا ہے مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس کو غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے۔ ۔ ۔ ”

یہ ترجمہ قرآن مجید کی تعلیمات کی اس روح کی عکاسی نہیں کرتا جس انقلابی مقصد کے حصول کیلئے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان تعلیمات کو لے کر نوع انسان کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ یہ موضوع اس قدر وسیع اور گہرا ہے کہ ایک نشست میں اس کا مکمل احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ اس لئے ہم ایک ایک لفظ پر الگ الگ بحث کرتے ہوئے ان سب کو مربوط کر دیں گے۔

جاننا چاہئے کہ قرآن کریم ایک زندگی بخش انقلاب کا امین ہے۔ اس کی تعلیمات اور آیات کا مفہوم ان تراجم سے کہیں بلند ہے جو عام طور پر ہمارے سامنے پیش کئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم کا مقصد ایک ایسی گورنمنٹ کا قائم کرنا ہے جو قوانین خداوندی کی نگہداشت کرتے ہوئے انسان کی انفرادی اور اجتماعی پرورش کرے۔ معاشرے میں امن قائم ہو، قانون کے سامنے سب برابر ہوں اور معاشرے میں رزق کی مساوی تقسیم ہو۔ قرآن کریم کی تعلیمات حلال و حرام کی ان تشریحات سے بہت زیادہ وسیع ہیں جو ہمیں کھانے پینے کی چیزوں اور جانوروں کی مناسبت سے بتائی جاتی ہیں۔ مگر چونکہ اس مد میں کبھی ریسرچ ہوئی ہی نہیں اس لئے آج کے دور کے مسلمانوں کو بھی آیات کے وہی مفہوم پڑھائے جاتے ہیں جو تقریبا” ایک ہزار سال سے ہماری مذہبی کتابوں میں لکھے چلے آرہے ہیں۔

تو آ یئے اس آیت میں پہلا لفظ الْمَيْتَةُ کو دیکھتے ہیں۔ الْمَيْتَةُ کا لفظی مطلب مردہ کا ہی ہے یعنی dead. اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے کہ تم پر مردار کھانا حرام ہے۔ یعنی کوئی بھی جاندار چیز جو مر چکی ہو اس کا کھانا ممنوع اور حرام ہے۔ غور کریں کہ کیا کوئی زندہ چیز بھی براہ راست کھائی جاسکتی ہے یا کھائی جاتی ہے؟ ہر زندہ جانور کو پہلے مردہ کیا جاتا ہے چاہے ذبح کرکے چاہے جھٹکا کرکے چاہے کسی اور طریقے سے، اور پھر اس کو کھایا جاتا ہے۔

ذرا غور کریں کہ آج مسلمان جو چکن روسٹ پلیٹ میں ڈال کر کھاتے ہیں کیا وہ زندہ ہوتا ہے؟ یا جو مچھلی فرائی کرکے کھائی جاتی ہے کیا وہ زندہ ہوتی ہے؟ جب یہ دلیل پیش کی گئی تو علماء کرام نے کہا کہ قرآن کریم کا یہ حکم اس جانور کیلئے ہے جسے مرے ہوئے کچھ وقت گزر گیا ہو، یعنی اس میں بدبو پیدا ہونا شروع ہو جائے تو اس کو کھانا حرام قرار دیا گیا ہے۔ اب یہ بات نہ تو عقل تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی ہمارا روز مرہ زندگی کا مشاہدہ کہ کوئی انسان اس طرح کا مردار کھاتا ہے یا کھا سکتا ہے۔ قدرت نے تمام جاندار اشیاء میں یہ خاصیت رکھ دی ہے کہ جیسے ہی اس کی موت واقع ہوتی ہے تو بیکٹیریا اس جسم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں جو اس مردہ جسم کو بدبو دار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ قدرت کا یہ نظام اس لئے ہے کہ کوئی اور جاندار اس مردہ گوشت کو نہ کھا سکے اور اس طرح اس کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ انسان تو دور کی بات کوئی جانور بھی ایسے متعفن گوشت کو نہیں کھاتا، ماسوائے حشرات الارض اور گدھ وغیرہ کے۔ اسی طرح دنیا کی تاریخ میں ہمیں کوئی ایسی قوم نہیں ملتی جو تعفن شدہ مردار کھاتی ہو۔

تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے اس قدر تاکید سے بار بار مردار کی ممانعت کا حکم کیوں دیا۔ ظاہر ہے کہ اس قدر شدت سے یہ حکم مردار گوشت کھانے کے بارے میں تو ہو نہیں سکتا۔ اللہ تعالی کا کلام بھی بر حق ہے اور اس کا حکم بھی اٹل ہے تو پھر مسئلہ ہماری سمجھ کا ہی ہوسکتا ہے۔ جن علماء کرام نے الْمَيْتَةُ کا ترجمہ مردار جانور کا گوشت کیا ہے ہمیں نہ تو ان کی نیت پر شک ہے اور نہ ہی ان کی علمی قابلیت پر۔ البتہ ہمارا خیال یہ ہے کہ ہر عالم دین نے اپنے زمانے کی علمی سطح اور انسانی شعور کی بلندی کے مطابق ترجمہ و تفسیر پیش کی تھی۔ چونکہ قرآن مجید ہر زمانے کیلئے انسان کو رہنمائی مہیا کرتا ہے اس لئے ضرورت ہے کہ قرآنی الفاظ کا مفہوم اس زمانے کی علمی سطح کو مدنظر رکھ کر سمجھا جائے جس میں رہنمائی لینے والا انسان رہ رہا ہو۔

عربی زبان میں جس لفظ سے پہلے ال لگا دیا جائے وہ اسم نکرہ سے اسم معرفہ بن جاتا ہے۔ ْمَيْتَةُ کا مطلب تو کوئی بھی مردہ جسم لیا جاتا ہے۔ اگر کسی بھی مردہ جسم کے گوشت کو کھانا حرام قرار دیا جانا مقصود ہوتا تو آیت کے الفاظ ” حرمت علیکم میتہ ” ہوتے۔ مگر جب اس کے ال لگا کر اسے الْمَيْتَةُ بنا دیا جائے تو پھر اس کا مطلب ہوگا وہ مخصوص مردہ پن جس کا ذکر قرآن کریم کرنا چاہتا ہے۔ قرآن نے ان آیات میں الْمَيْتَةُ کو اس کیفیت سے تعبیر کیا ہے جس میں زندگی کی رمق باقی نہ رہے، جو مردہ کی طرح بے حس اور بے کار ہو اور جس پر کسی اچھی یا بری بات کا اثر ہو۔ لہذا اس آیت کا صحیح قرآنی مفہوم یہ ہوگا:

“تم پر حرام قرار دیا گیا ہے ایک مردہ شخص کی طرح رویہ اختیار کرنا، تم پر ممنوع ہے ایک مردہ قوم کی طرح رہنا، تم پر قانونی طور پر جرم ہے بے حس اور لاتعلق ہوجانا۔ اپنے اندر زندگی کی رمق پیدا کرو، بے حس مت بنو اور زندگی اور معاشرے میں ہونے والی ہر ہر تبدیلی کے متعلق باخبر رہو۔ تمہارے لئے یہ قطعا” ممنوع اور حرام ہے کہ تم اپنے سامنے کوئی غیر قانونی حرکت ہوتی ہوئی دیکھو اور خاموش رہو۔ تم پر حرام ہے کہ اگر کوئی ظلم اور جبر تمہارے سامنے ہو رہا ہو اور تم خاموش تماشائی بنے رہو۔ اگر تم ظلم و جبر اور جرم کو دیکھ کر بھی خاموش اور لاتعلق رہے تو اس جرم میں تم بھی برابر کے شریک سمجھے جاؤ گے۔ ”

امریکہ اور دوسرے مہذب ممالک میں قرآن کریم کے اس تصور کو قانونی شکل دے دی گئی ہے۔ وہاں پر اگر کوئی شہری کسی جرم کو ہوتا ہوا دیکھے اور اپنی حسب طاقت اس کی مزاحمت نہ کرے اور لاتعلق رہے تو اس شخص پر بھی فرد جرم عائد ہوتی ہے۔ اسی لئے مہذب معاشروں میں اس بات کو یہ الفاظ پہنائے جاتے ہیں کہ :

It is unlawful for you to act as a dead person and dead nation. It is totally intolerable for the society that someone will be deliberately insensitive to pain and suffering. Therefore it is time and again reminded that no one should play dead. Do intervene wherever you see cruelty and excesses. Because this is the only difference between dead and an alive person. A dead person will be deliberately insensitive to abuse and bloodshed whereas an alive person will take notice of it and will react.

ان آیات کے علاوہ بھی قرآن کریم میں متعدد مقامات پر الميتة کا لفظ مردہ اور زندہ قوموں کے موازنے کے طور پر آیا ہے جن کا یہاں ذکر کرنا مضمون کی طوالت کی وجہ سے مناسب نہیں ہے۔

آپ نے دیکھا کہ قرآن کریم ہمیں کس اعلی مقام پر لے کر جانا چاہتا ہے اور اس قرآنی نظام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والے قرآنی آیات کے معارف و معانی کو کس طرح محدود کرکے ہمیں ایک مردہ اور بے قوم کی طرح رکھنا چاہتے ہیں۔ قرآن ایک زندگی بخش کتاب ہے اور اس کا پیغام محض کھانے پینے کی چیزوں کے حرام و حلال سے کہیں زیادہ بلند ہے۔ وہ قوم جس کو قرآن نے زندہ کرکے صرف 49 سال میں ایک سپر پاور بنا دیا تھا، جس کی سرحدیں سپین سے لے کر دہلی تک جا پہنچی تھیں، وہی قوم جب بے حس اور مردہ ہوگئی تو آج اس کا شمار دنیا کی پسماندہ ترین اور جاہل ترین اقوام میں ہوتا ہے۔ آج بھی اگر ہم من حیث القوم ترقی یافتہ لوگوں کی صف میں کھڑا ہونا چاہیں تو ہمیں قرآن کریم کے اس آفاقی پیغام پر عمل کرنا ہوگا کہ
“خبردار، تم پر ممنوع اور حرام کر دیا گیا ہے ایک مردہ اور بے حس قوم کی طرح رہنا اور رویہ اختیار کرنا”

ربنا تقبل منا انك أنت سميع العليم

The Allegations of Money Laundering on Pakistani Finance Minister

Mian Nawaz Sharif is Prime Minister of Pakistan and Mr. Ishaq Dar, his ‘Samadhi’, is Finance Minister of Pakistan.

Sometimes back when both were not in power, Ishaq Dar gave a statement in the court on an Affidavit that he had helped Nawaz Sharif in transporting a huge amount of money out of Pakistan through Money Laundering..

MONEY LAUNDERING IS A VERY SERIOUS INTERNATIONAL CRIME…

THERE ARE ONLY TWO POSSIBILITIES….

Either Mr. Ishaq Dar is telling the truth

Or

Mr, Ishaq Dar is telling a lie….!!

And, there should have been only two outcomes…

1. IF ISHAQ DAR IS TELLING THE TRUTH, THEN NAWAZ SHARIF SHOULD NOT HAVE BEEN THE PRIME MINISTER

AND

2. IF ISHAQ DAR IS TELLING A LIE, THEN HE SHOULD NOT HAVE BEEN THE FINANCE MINISTER..

BUT

BOTH ARE RULING THE COUNTRY !!

 

Written by Akhtar Malik on 3 Oct 2014

Possible Outcomes of Musharaf Trial Under High Treason

By Akhtar Malik: 3 Apr 2014

1011618_733099450055020_1962484865_nThough I am not in favor of any Martial Law or military takeover, but the way Mush case is being proceeded with, has raised some alarms. People in Pakistan, particularly the politicians, have just heard about dictatorship, they have not seen a real dictator as yet. We can name many dictators in history- some of them being Hitler, Mussolini, Stalin, Saddam etc.

All coups in Pakistan have so far been bloodless which just resulted in a change of govt. A real dictator will not excuse even a slightest dissent and will crush any opposition ruthlessly. He will not hesitate to put hundreds and thousands of his opponents on death row.

It is commendable for any civilian govt to talk about supremacy and safeguard of Constitution. PML-N govt has also embarked upon this venture. But they have not framed the treason charges well and proper. They have singled out Mush, applied para 1 of Article 6 of Constitution but have deliberately left / ignored accomplices of Mush like leadership of PML-Q, MQM, PCO Judges and other Generals. Similarly all those who have been enjoying power while siding with Mush, have taken their ride with PPP and are now sitting with Noon. They have neither been condemned nor penalized. This is dangerous and will help in averting the possibility of a future Martial Law.

I fear if the things are allowed to move in the same direction the next Martial Law will be bloody, ruthless and cruel. The architects of a future Martial Law will wipe out all those from whom they could feel threatened, will erase all proofs and above all will come to power for an indefinite period. They will not bank upon their civilian supporters / accomplices and will probably not use the crutches of a parliament or judiciary.

I wish it never happens and our civilian institutions get their roots firm. But I earnestly feel that the door of any future Martial Law cannot be closed with prosecutions and punishments, rather it can only be done with empowering the people through real Local Govt rule, eradicating corruption, establishing law & order, improving judicial procedures and making the economy strong. But so far no meaningful progress is in sight on a/m lines.

DEFENSE OF PAKISTAN DEMANDS A TOTAL REVAMPING OF ITS CORRUPT ELECTORAL SYSTEM

By Akhtar Malik- 6 Sept 2013
1006057_519736934770498_989226080_nOn the eve of 6 Sept we pay homage to our brave defense forces for the selfless sacrifices rendered by them in defense of the mother land. Despite of severe criticism from our media, politicians, civil society, journalists, immense pressure from India on eastern borders and terrorist attacks from western borders, and a well planned anti Pakistan / Army campaign at international level, our Army stands fast on all fronts. Pakistan Army is the last hurdle in the way of our enemies, both internal and external, who are bent upon destroying Pakistan. The 4th Generation War against Pakistan and its defense forces / ISI is going on in full swing, but our soldiers are displaying exceptional bravery and resilience to thwart this threat.

But what is the real way of celebrating the Defense Day? How can we strengthen the defense of our country. Obviously the first step is to strengthen our armed forces and give them moral support to accomplish their mission. But given the scenario through which we are passing, I believe that the defense of Pakistan demands a total demolition of the existing corrupt, inefficient and inept electoral system. The electoral system of any country is of tremendous importance because it props up the leadership for making national policies and ensuring an effective governance in the country. If the electoral system is corrupt by itself it will never allow a truly honest and capable leadership to thrive.

hataf2As is happening in Pakistan, the existing electoral system is continuously propping up the same old, rotten and corrupt people who have been looting and plundering the nation for 6 decades with impunity. This corrupt system does not allow to change the faces even, so we are not surprised to see the same people in assemblies who supported Musharaf, then were part of Zardari government and are now active members of Nawaz Shareef government without any sign of shame on their faces. The logical result is that this land has yet to see the light of any positive change.

This inept electoral system effectively blocks the actual representation of poor people and down trodden segments of society. This system keeps the common people slave of the ‘electable’ who are otherwise the most corrupt and biggest law breakers of their respective areas. This system totally favors the looters, plunderers and corrupt persons and gives them authority to frame our destinies. It supports rigging and malpractices during election and once the victims plead for redress, the justice is denied to them. As a result of the elections conducted under this system, the corrupt mafia becomes ever stronger and exploits the poor people with more vigor. The so-called ‘representatives’ of the people sitting in assemblies and the cabinets will never have the moral strength and courage to face the internal and external enemies of Pakistan. They will be readily purchased and intimidated by the enemies and will not be allowed to make people-friendly and Pakistan-oriented domestic and foreign policies. The defense of Pakistan will always be at a great risk if these people are allowed to remain at the helm of affairs. An utmost struggle like ‘Jihad’ against the electoral system is the only way to ensure the integrity, stability and progress of the country.

The continuation of corrupt electoral system is a serious threat to the very existence of Pakistan.